بنگلورو6 ؍مئی(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) شیواجی نگر کے تاریخی رسل مارکیٹ میں آج ملک کے ممتاز شاعر عمران پرتاپ گڑھی کے علاوہ سابق رکن پارلیمان و کھلاڑی محمد اظہر الدین، سابق رکن پارلیمان و مختلف ممالک کے سفیر رہ چکے اخبار نو کے مدیر اعلیٰ میم افضل، نئی دنیا کے مدیر اعلیٰ وسابق رکن راجیہ سبھا شاہد صدیقی، تلنگانہ قانون ساز کونسل کے اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر، مغربی بنگال کانگریس کمیٹی کی سکریٹری ڈاکٹر رانی شری رائے کے علاوہ متعدد قائدین نے وزیر برائے شہری ترقیات وحج اور شیواجی نگر کے کانگریس امیدوار آر روشن بیگ کے حق میں انتخابی مہم چلائی اور جلسہ عام سے خطاب کیا۔شاہد صدیقی نے بتایا کہ شیواجی نگر اور کرناٹک کے عوام خوش قسمت ہیں کہ انہیں روشن بیگ جیسا قائد ملا ہے۔اگر ایسے دس رہنما مل جائیں تو ملک کی قسمت بدل جائے گی۔ملت کے علاوہ ملک اور برادران وطن کا درد رکھنے والے ایسے قائدین شاذ ونادر ہی ملتے ہیں اور وہ پورے جنوب میں مقبول ترین رہنما ہیں وہ انہیں دہلی پہنچانا چاہتے تھے اور انہیں امید ہے وہ دہلی پہنچ کر رہیں گے۔روشن بیگکو 6 مرتبہ منتخب کرنے والے عوام اس مرتبہ منتخب کرکے ساتویں آسمان تک پہنچائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ پورے ملک میں روشن بیگ جیسا منتظم نہیں دیکھا ہے وہ سکیولرہندوستان کی طاقت اور ملت کی جان ہے۔موجودہ انتخابات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔پوری دنیا کی نگاہیں کرناٹک پر مرکوز ہیں۔کرناٹک کا جو فیصلہ ہوگا اس کا اثر پورے ملک میں پڑے گا۔یہاں اگر سکیولرزم کی جیت ہوئی تو 2019 میں دوبارہ ملک میں سکیولر حکومت قائم ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔وزیر اعظم مودی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مودی نے کسی کا فائدہ نہیں کیا ہے۔ہر طبقہ پریشان ہے۔ایسے ملک کو مودی سے بچانا بے حد ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ انتخابات نہ سلطان کے اور نہ ہنومان کے درمیان ہیں، بلکہ یہ ہندوستان کی لڑائی ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حق رائے دہی کا لازمی طور پر استعمال کریں، کیونکہ ہر ووٹ کی قیمت واہمیت ہے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی ووٹنگ شرح میں اضافہ کریں۔میم افضل نے بتایا کہ روشن بیگ نے سیاست میں اپنا نمایاں مقام بنایا ہے۔وہ ایک ایسے باشعور لیڈر ہیں، جنہیں اعلیٰ کمان تک قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ امبیڈکر کے دئے ہوئے سکیولر دستور کی وجہ سے آج ملک محفوظ ہے۔آئین کو برباد کرنے والے خود برباد ہوکر رہ جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ مودی حکومت کسی سوال کا جواب نہیں دے پارہی ہے، اور جھوٹ کے سہارے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ قومی ترانے کی توہین کرنے والے آج ہم سے حب الوطنی کا سرٹی فکیٹ مانگ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ روشن بیگ کی کامیابی سے کرناٹک کا وقار بلند ہوگا۔اظہر الدین نے بتایا کہ 6 مرتبہ جتانے والے عوام کے لئے یہ ناممکن نہیں ہے کہ ساتویں مرتبہ بھی وہ روشن بیگ کو کامیاب بنائیں۔انہوں نے ووٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ ہر ووٹ قیمتی ہے اور ووٹ ڈالنا بے حد ضروری ہے۔انہوں نے پارٹی کارکنوں کو آواز دی کہ وہ پولنگ کے دن پولنگ بوتھس میں چوکنا رہیں اور اپنی ذمہ داری پوری طرح سے نبھائیں۔محمد علی شبیر نے بتایا کہ آزادی کے بعد ملک میں ایسے حالات کبھی رونما نہیں ہوئے اب سنگھ پریوار اور سکیولرزم کے درمیان لڑائی ہے۔محبت بانٹنے والی اور نفرت بانٹنے والی جماعت کے درمیان جنگ ہے۔اگر اس جنگ میں سکیولرزم جیت گئی تو 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج پر اس کا گہرا اثر پڑے گا۔انہوں نے بتایا کہ مودی حکومت کے ذریعہ آئین کو بدلنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔لوک سبھا میں اکثریت ہونے کے باوجود راجیہ سبھا میں اکثریت نہ ہونے کے سبب یہ لوگ خاموش ہیں۔جب انہیں اکثریت مل جائے گی تو دستور بدل دیا جائے گا۔ایسے میں کرناٹک کے عوام پر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔مسلمانوں پر شمالی ریاستوں میں ہونے والے مظالم کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان معاملات پر مودی کی زبان نہیں کھلتی ہے اور جب یہ کرناٹک آتے ہیں تو چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ یہاں پر سنگھ پریوار کے 22 کارکنوں کا قتل ہوا ہے۔تین طلاق کا معاملہ اٹھانے والے مودی کو یہ بھی سوچنا ہے کہ اپنی بیوی کے ساتھ کیا کیا ہے۔چائے فروخت کرنے والا 10 لاکھ کا سوٹ نہیں پہن سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ حج خدمات سے متعلق آندھرا پردیش نے بھی روشن بیگ سے سیکھاتھا۔آج ملک کی 29 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ میں اگر کوئی بے باک اور لیڈر ہے تو وہ سدرامیا ہے۔گوشت کے معاملہ پر انہوں نے جو موقف ظاہر کیا وہ دلیری کی علامت ہے۔مرکزی حکومت نے جہاں اقلیتوں کی فلاح کے لئے پورے ملک کے لئے 3500 کروڑ کا بجٹ مختص کیا ہے تو صرف کرناٹک نے اقلیتوں کی فلاح کے لئے 3000 کروڑ روپیہ مختص ہیں۔انہوں نے بھی ووٹ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے درخواست کی کہ نماز فجر کے بعد اولین ساعتوں میں پولنگ بوتھ پہنچ کر حق رائے دہی کا استعمال کریں۔ورنہ تاریخ میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ کرناٹک کی وجہ سے ملک کو کن کن نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے بتایا کہ روشن بیگ کی کامیابی اس ملک اور سکیولرزم کی کامیابی ہوگی۔عمران پرتاپ گڑھی نے اپنی معروف نظموں اور غزل کے اشعار کے ذریعہ یہ ثابت کیا کہ اسمبلی انتخابات کافی اہم ہیں اور پورے ملک کی نگاہیں کرناٹک پر لگی ہوئی ہیں۔سرزمین بنگلور کو انہوں نے مذہبوں اور تہذیبوں کا سنگم قرار دیتے ہوئے بتایا کہ شیواجی نگر کے رہنما روشن بیگ ہیں تو ملک کی یکتا کی کیا مثال ہے۔آج نفرت پھیلانے والی طاقتوں نے ملک کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش شروع کردی ہیں۔یہاں کی عوام صرف اپنا نمائندہ نہیں چنیں گی بلکہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔یہ فیصلہ ہوگا کہ ہندوستان ملک کو توڑنے والوں کے ہاتھ میں جائے گا،یا جوڑنے والوں کے۔اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے جواں سال شاعر نے بتایا کہ اپنے صوبے میں فرقہ پرست حکومت کے ذریعہ کس طرح کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ایک بی جے پی رکن اسمبلی کے ذریعہ کمسن کی آبروریزی ہوتی ہے اور ملزم کو سزا دینے کے بجائے متاثرہ کے والد کو ہلاک کردیا جاتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے۔مگر گزشتہ 7 دنوں سے وہ کرناٹک میں صرف اس لئے ہے کہ سکیولر طاقتوں کو مضبوط کیا جائے۔اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی کے ذریعہ کرناٹک میں دئے جارہے اشتعال انگیز بیانات کا تذکرہ کرتے ہوئے عمران پرتاپ گڑھی نے بتایا کہ وہ پرانی باتیں دھرارہے ہیں۔ایک رنگ کا خواب سمیٹے ہوئے وہ یہاں گھوم رہے ہیں اور وہ تین رنگوں والے ترنگے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ لوگ یکجہتی اور بھائی چارہ برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔آج یہاں روشن بیگ کی حمایت میں تمام طبقات کے لوگ جمع ہوئے ہیں۔یہ نظارے ان کے لئے برداشت کے باہر ہیں۔پہلے مسلمانوں پر حملے کئے گئے اب دلت ان کے نشانے پر ہیں۔ناانصافی کے خلاف جب دلتوں نے بھارت بند منایا تھاتو اس وقت صرف میرٹھ شہر میں ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات درج کئے گئے تھے۔اللہ تعالیٰ بھی ایک حد تک ہی ظلم ونفرت کی رسی کو ڈھیل دے سکتا ہے۔اب امت شاہ جیسے شاطر سیاستدان کی زبان سے یہ نکل رہا ہے یڈیورپاسب سے بدعنوان وزیر اعلیٰ ہیں۔انتخابات سے قبل اپنے آپ کو پردھان سیوک اور چوکیدار قرار دے کر ملک کے خزانے کو محفوظ رکھنے کا دعویٰ کرنے والے آج خود عوام کو دشواریوں میں مبتلا کررہے ہیں۔اس موقعے پر جواں سال قائد آر رومان بیگ،ضلع کانگریس صدر جی شیکھر، کارپوریٹرس شکیل احمد، محمد ضمیر شاہ ،وسنت کمار، گناشیکھر، اشتیاق احمد، سابق کارپوریٹر گوپی، سید شجاع الدین، سرونا، بلاک کانگریس صدور راجیندرا، کرشنا بائرے گوڈا، این چندرا، پارٹی قائدین اسماعیل شریف نانا، کے پی سی سی سکریٹری کے علاوہ دیگر قائدین موجود تھے۔معروف شاعر مبین منور نے نظامت کی۔